روٹھ جانے سے پہلے
Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabadمیرے ضبط کو آزمانے سے پہلے
ذرا سوچ لو
روٹھ جانے سے پہلے
جُدائی کے لمحات خاصے کٹھن ہیں
محبت کے وعدے نبھاتے ہیں دونوں
عہدِ وفا بھول جانا غلط ہے
سوچو ذرا
ہم جدا ہوگئے تو
لوگوں کے طعنوں کا مرکز بنیں گے
اگرچہ ابھی تم حسیں ہو جواں ہو
مگر عُمر کا جب اندھیرا بڑھے گا
دیے کی ضرورت کا احساس ہو گا
فقظ
اُس گھڑی یاد آؤں گا تُجھ کو اور
آنکھوں سے بِن چاہے بہنے لگوں گا
ٹپک کر گِروں گا ہتھیلی پہ تیری
کہوں گا تجھے مُسکرانے سے پہلے
ذرا سوچ لو
روٹھ جانے سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






