روٹھنا منانا
Poet: اسد جھنڈیر۔۔۔ By: ASAD jhandeer, MPK روٹھنا منانا کس بات کا ھے؟
پیار میں اترانا کس بات کا ھے؟
ہو کر رھے گا کچھ نہ کچھ۔
پھر گھبرانا کس بات کا ھے
آئینے میں وہی اپنا منہ ھے
خود سے شرمانہ کس بات کا ھے؟
مطلبی ہیں مطلبی سارے رشتے
ساتھ نبھانا کس بات کا ھے؟
کانٹوں کی سیج ھے یہ عشق
دامن بچانا کس بات کا ھے؟
بس بہت ہوا یار مر مٹنا
جان گنوانا کس بات کا ھے؟
وفا کی قیمت جب باندھ چکے ہو
پھر احسان جتانا کس بات کا ھے؟
جب ایک آنکھ نہیں بھاتے تم کو
پھر سامنے آنا کس بات کا ھے
لے اٹھے جاتے ہیں محفل سے تیری
اب بھائو کھانا کس بات کا ھے
کہتے ہو خود سے دفع ہو جائو
پھر سے بلانا کس بات کا ھے؟
پیار کا خد سر الزام لگا کر
پھر شرمندہ کرانا کس بات کا ھے؟
اسد کے نام سے جب چڑ کھاتے ہو
پھر لب پر لانا کس بات کا ھے؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






