روکا تو بہت تھا مگر اظہار ہو گیا
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillسمجھو کہ ہر اک ولولہ بیکار ہو گیا
موسم ہی اگر حسن سے بیزار ہو گیا
اس دید کے لمحے نے خریدا میرا وجود
لمحہ نہ ہوا مصر کا بازار ہو گیا
اک سمت موت ہے تو ہے اک سمت زندگی
کس موڑ پہ اس شوخ کا دیدار ہو گیا
گو اس نے دل کی بات بتائی نہ آج تک
ہاں اشک بتاتے ہیں اسے پیار ہو گیا
ہیں پھول سبھی ایک سے تقدیرجدا ہے
اک لحد پر سجاہے تو اک ہار ہو گیا
ہر ریشمی بدن میں کہاں وہ نذاکتیں
دیکھا تو دل کو دھڑکنا دشوار ہو گیا
جذبات کی یلغار کو اک بند کی مانند
روکا تو بہت تھا مگر اظہار ہو گیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






