رکھ کے کمزور کی گردن پہ پاؤں ہنسنا ، ناز کرنا

Poet: NEHAL INAYAT GILL By: NEHAL GILL, Gujranwala

درد مندوں کو ستانا ہے میرے شہر میں عام بات
کسی کا بھی حق کھانا ہے میرے شہر میں عام بات

مُردوں کو جلاتے ہیں ترے شہر والے افسردگی میں
جناب! زندوں کو جلانا ہے میرے شہر میں عام بات

رکھ کے کمزور کی گردن پہ پاؤں ہنسنا ، ناز کرنا
یوں اپنا سکہ منوانا ہے میرے شہر میں عام بات

کسی حادثے پہ میں کیا کروں اظہارِ غم بتاؤ!
روز بروز دہشت پھیلانا ہے میرے شہر میں عام بات

پتھر رکھ لیے ہیں ہم نے سینوں میں دل کی جگہ
دل توڑنا دل دُکھانا ہے میرے شہر میں عام بات

جنگل میں شاید ہو کچھ اِس سے بہتر نظامِ حیات
یہاں زخمی کو تڑپانا ہے میرے شہر میں عام بات

نہال اگرچہ جلاتے ہیں سبھی شب میں چراغِ محبت
شب میں شمع بجھانا ہے میرے شہر میں عام بات

Rate it:
Views: 591
08 Nov, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL