رہ نہیں سکتا کوئی پوُری طرح سے ہوش میں
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKرہ نہیں سکتا کوئی پوُری طرح سے ہوش میں
کِس قدر گہر ا نشہ ہے رات کی آغوش میں
ہم بظاہر ہی نظر آتے ہیں اتنے پرُ سکوں
کون جانے کیا چھپا ہے اس دلِ خاموش میں
چاروں جانب سے گھرِا سبزے کی لمبی باڑ سے
ایک چھوٹا سا مکاں ہو وادیٔ گلُ پوش میں
ہم اکیلے ہی بھلے تھے ہم کو جانے دیجیۓ
کیا کریں گے رُک کے ہم اِس محفلِ مدہوش میں
پیار کرنے کا گنہہ مجھ سے بھی سر ذد ہو گیا
بے گناہی بھی تو ہوگی کچھُ ، مِرے اس دوش میں
مجھ میں ہی ہوگی کمی کوئی ، یہ لگتا ہے مجھے
جو سکوُں ملتا ہے اُن کو غیر کی آغوش میں
یہ بھی ممکن ہے کہ پچھتانا پڑے پھر عمر بھر
فیصلہ کرنا نہ عذراؔ تم کبھی بھی جوش میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






