رہے دل میں داستاں میری
Poet: By: Peerzada Arshad Ali Kulzum, harrisburg PA USAرہے دل میں داستاں میری
نہ سمجھے کوئی یہاں زباں میری
رنگ برنگی اس جہاں میں
کسں کس پے کروں جاں میری
جب جھکوں گا پھر دیکھنا سیاقی
نہیں جائے گی عبادت رائیگاں میری
خبر نہیں کیا وہ سوچتا ہوگا
سوچتا ہوں بتا دوں پر سنے گا کب کہاں میری
ستاروں سو جاؤ نہ جاگو ساتھ ساتھ میرے
گزر جائے گی یہ شب بھی پریشاں میری
جلایا چراغ چہرہ نظر آیا اس کا
قسم سے قلزم آپڑی ہے جان میں جاں میری
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







