رہے گا یاد اے وشمہ یہ سب سدا مجھ کو
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاہو تیری کیسے تعریف یہ بتا مجھ کو
جو بھائے دل کو ترے حرف وہ سکھا مجھ کو
میں ڈھونڈتی ہی رہی تجھ کو کہاں تھا تو جانے
سنائی دیر سے دی ہے تری صدا مجھ کو
سنا ہے تیرے بھی دل میں امنگ جاگی ہے
خبر ہے ساری تو چاہے نہ اب بتا مجھ کو
ہوا نے چپکے سے کھولا تھا رات و دروازہ
تو مجھ سے ملنے چلا آیا یہ لگا مجھ کو
وہ آئےگا نہ کبھی اس کا انتطار نہ کر
تھی نیند آدھی تو وجدان نے کہا مجھ کو
سخن کا شہر رفیقوں کی یہ حسیں محف
رہے گا یاد اے وشمہ یہ سب سدا مجھ کو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






