ری ملن لیئے ملن تھا ہر آدمی سے
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiتیری ملن لیئے ملن تھا ہر آدمی سے
اب کہ ہر رات ملتا ہوں چاندنی سے
نہ حسرتیں نہ وہ عشق پہلے جیسا رہا
جیسے چھٹکارا مل گیا کسی خادمی سے
محاصل کچھ خوشیاں تو وہ لیکر چلے
تسکین پھر کہاں ملتی ہے آمدنی سے
تقدیر تو ویسے بلیغ ہے سب کی مگر
لوگ کیا کیا مانگتے ہیں جپنی سے
رفاقت اعمال میں کچھ احتیاط نہ رہا
میں دکھ بھی کیا کروں اپنی کرنی سے
وہ لکھنے والا جو ادھوری چھوڑ گیا
مجھے سروکار بھی نہ رہا اِس کہانی سے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






