زبُوں ہوئے کہ ترے در کی خاک ہونا تھا
Poet: عنایت الرحمان By: عنایت الرحمان, ایبٹ آبادزبُوں ہوئے کہ ترے در کی خاک ہونا تھا
ہمیں کہ تیری محبت میں طاق ہونا تھا
خلوص اتنا ، محبت بھی حد سے تھی زیادہ
جنون تھاشرط ، گریباں تو چاک ہونا تھا
گناہِ راست گوئی ، اُس پہ بے ریا الفت
یہ جرم ایسےہیں قصہ تو پاک ہونا تھا
اسی کا دھیان رہا جس نے دھیان ہی نہ دیا
وصال ایسی محبت میں ، خاک ہونا تھا
تری جدائی کے صدموں نے توڑ پھوڑ دیا
وگرنہ ایسے کہاں ، ہمیں ٹھیک ٹھاک ہونا تھا
ہمیں تو جو بھی ملا ہم نے رہنما جانا
ھم ایسے سادہ دلوں نے ہلاک ہونا تھا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






