زخم
Poet: dr ch tanweer sarwar shakar By: dr ch tanweer sarwar, Lahoreنکلا ہے سورج ہمیشہ ڈوب جانے کے بعد
ملا دل کو سکون مئے پینے پلانے کے بعد
قصہ کیا بتائیں تمہیں اپنی غزل بنانے کا
بنتا ہے ایک شعر کئی لفظ مٹانے کے بعد
ہو جائے کسی سے عشق تھا ہمیں شوق
آیا ہوش ہمیں چوٹ عشق کی کھانے کے بعد
صورت تیری ہمیشہ دل میں بسائے رکھتا ہوں
مگر بھلا دیا تونے ہمیں آزمانے کے بعد
لگائے دل پہ اتنے زخم کمسن نے ہمیں
نہ بھر پائیں گے شاکر مرہم لگانے کے بعد
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






