زخم دل پھر رسنے لگا ہے پر ذرا ذرا
Poet: rizwana By: rizwana, torontoزخم دل پھر رسنے لگا ہے پر ذرا ذرا
دل سے وہ اترنے لگا ہے پر ذرا ذرا
جانے سے اس کے ہوی شام اداس
پر من اب بہلنے لگا ہے ذرا ذرا
کرتی ہیں گھائل یادیں اس کی
سیکھ لیا جینا ہم نے بھی پر ذرا ذرا
جدائ کا منظر تھا آبدیدہ بہت
بہہیگتا رہا رومال پر ذرا ذر
اے باد ی صبا پیام اس کو دیجیو
قرار دل کو آنے لگا ہے پر ذر
یونہی نہ زعم میں رہے وہ کہیں
قرار تھا وہ دل کا پر ذرا ذرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






