زخم سینے کا حوصلہ کم ہے
Poet: SHAHEEN By: HAFIZ M IQBAL SHAHEEN, Sargodhaزخم سینے کا حوصلہ کم ہے
پھر سے جینے کا حوصلہ کم ہے
روز ملنے کا تھا مزا اپنا
ہاں مہینے کا حوصلہ کم ہے
یونہی مرنے کو جی نہیں کرتا
اور جینے کا حوصلہ کم ہے
رات ڈھلنے کو ہے میرے ساقی
اب تو پینے کا حوصلہ کم ہے
صاف گوئ شعار ھے میرا
بغض و کینے کا حوصلہ کم ہے
زخم دیتےہؤے نہ سوچو تم
میرے سینے کا حوصلہ کم ہے
چھت پہ ہر روز ملنے والے کا
ایک زینے کا حوصلہ کم ہے
اتنی اجرت کے سامنے شاہین
اب پسینے کا حوصلہ کم ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






