زخموں کا موسم

Poet: ہیکل ہاشمی By: Haikal Hashmi, Dhaka

‎سوچتا ہوں جب دُکھ ہی حاصلِ جاں ہو
‎پھر تو زندگی اپنی دُکھوں کی دُکاں ہو

‎رنگ بِرنگے دکھ طاق پہ سجے ہیں

‎کاسنی کہیں، آتشی دہکتا ہوا رنگ
‎سُرخ شریانوں سے ٹپکتا ہوا رنگ
‎سوزشِ دل سے پگھلتا ہوا رنگ
‎ہجر کی آگ میں سلگتا ہوا رنگ
‎تیری یادوں سے مہکتا ہوا رنگ

‎سوچتا ہوں، عشق نہ ہو جیسے کوئی امتحاں ہو

‎ہر روز ایک نیا آموختہ پڑھنا
‎ہجر و وصل کی داستاں پڑھنا
‎اشاروں کی مبہم زباں پڑھنا
‎زندگی کے سُود و زیاں پڑھنا

‎پھر سوچتا ہوں زخم کھلنے کے لئے

‎کوئی خاص موسم ہو ضروری تو نہیں
‎جب تُم ہی نہیں ہو میری دُنیا میں

‎زخموں کے پھول کھلیں، کونپلیں پھوٹیں
‎درد کب در آئے کسے معلوم
‎ہم تیار بیٹھیں رہیں

‎وحشتِ دل کے لئے کب کیا ساماں ہو
‎کوئی رُت نہیں ہے جنوں کی
‎موسم ِ گل ہو کہ خزاں ہو
‎درد ہو، کسک ہو، خیالِ جانِ جاں ہو!

Rate it:
Views: 648
17 Sep, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL