زخموں کو چیر چیر کے ہر دم جواں کروں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاسینے میں میرے درد ہے کیسے بیاں کروں
کیسے تمہارے سامنے دل کو عیاں کروں
لکھی ہیں میں نے شعروں میں زندہ کہانیاں
اس کے سوا کیا میں رقم داستاں کروں
میں نے صعوبتوں میں گزاری ہے زندگی
تقسیم اپنے درد کو دلبر کہاں کروں
ہو گا نہ ختم آج مرے درد کا سفر
دریا کو اپنی آنکھ سے ہر دم رواں کروں
ایسا نہ ہوکہ خواب ہی بن جائے زندگی
ایسا نہ ہو کہ خواب ہی خود کو گماں کروں
دکھ اتنے گہرے روح میں زخموں کے ہو گئے
زخموں کو چیر چیر کے ہر دم جواں کروں
جو کل سماج میں تھے مسائل ہیں آج بھی
کیا کیا ہیں دردِ زندگی تم سے بیاں کروں
اک تم ہو بیوفائی کا پیکر جہان میں
میں تو وفا کو خون سے ہر دم جواں کروں
دکھ سکھ میں ساتھ میرا نبھاؤ نا عمر بھر
وشمہ میں کیسے روح کو نوکِ سناں کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






