زرد انتظار کی رت
Poet: مونا شہزاد By: Mona Shehzad, Calgaryوہ اکثر کہتا تھا
جاناں! یہ جدائی کا رنگ زرد کیوں ہوتا ہے؟
ہمیشہ بچهوڑے کو خزاں سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟
مجھے تو زرد رنگ اور موسم خزاں دونوں بہت پسند ہیں
لو! آج بیچ خزاں کے وہ مجھے تنہا چهوڑ کر لحد میں سو رہا ہے
میں آج پھر اس امید پر زرد رنگ میں ملبوس ہوں
کہ اچانک وہ کہیں سے نمودار ہوگا
مجھے اپنی باہوں میں چکر دے کر کہے گا
جاناں! تم ،یہ زرد ملبوس اور موسم خزاں
سب ہی تو رب کی عطا ہیں
میں مسکرا کر شرما کر سر اس کے کاندھے پر رکه دوں گی
مگر کیوں جی کو دهڑکا سا ہے. کیا اب یہ کبھی ہوسکے گا؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






