زلف پریشاں
Poet: safir By: syed ghulam akbar shah safir, sadiqabadآنکھوں کے جزیرے پہ اترنے نہیں دیتا
وہ شخص کوئی کام بھی کرنے نہیں دیتا
رکھتا ہے چرا کر وہ بڑا اپنے بدن کو
شانے پہ ذرا ہاتھ بھی دھرنے نہیں دیتا
چلتا ہے سمٹ کر وہ بہت تیز ہوا میں
آنچل کا کوئی رنگ بکھر نے نہیں دیتا
چھینا ہے مجھے مجھ سے ہی کچھ ایسی ادا سے
مرنا بھی اگر چاہوں تو مرنے نہیں دیتا
رکھتا ہے مجھے زلف پریشاں کی طرح سے
اک پل مجھے سافر وہ سنورنے نہیں دیتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






