زمانے بھر اب کوئی ہمیں اپنا نہیں لگتا
Poet: Zeeshan Lashari By: Zeeshan Lashari, Kunriزمانے بھر میں اب کوئی ہمیں اپنا نہیں لگتا
یہاں سب لوگ اچھے ہیں کوئی خود سا نہیں لگتا
اب اس کے واسطے یکسر خودی کو مار ڈالیں کیا
وہ ہم کو اچھا لگتا ہے مگر اتنا نہیں لگتا
نہ آنکھوں میں ہیں حلقے اور نہ رنگت اڑی سی ہے
وہ کہتا ہے کہ تنہا ہے مگر تنہا نہیں لگتا
میں تم سے پیار کرتی ہوں یہ جملہ سننا چاہا تھا
کہا اس نے کہ یوں کہنا ہمیں اچھا نہیں لگتا
ہیں دیکھیں مشکلیں اتنی کہ اب تو جو بھی ہو جائے
ذرا دھڑکا نہیں لگتا ذرا کھٹکا نہیں لگتا
کبھی لگتا ہے دشمن ہے کبھی محبوب لگتا ہے
اے دل اب بس بھی کردے وہ تجھے کیا کیا نہیں لگتا
کہا ہم نے محبت کے بنا سب کچھ ادھورا ہے
کہا اس نے کہ ہوگا پر ہمیں ایسا نہیں لگتا
ذرا اس دل کی حالت دیکھنا کہ اس دیوانے کو
سوا اک بے وفا کے کوئی بھی پیارا نہیں لگتا
اب آخر شانؔ تیرے دل کا کیا ہوگا کہ بیچارہ
تجھے تیرا نہیں لگتا اسے اس کا نہیں لگتا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






