زمین کا آفتاب
Poet: By: Hukhan, karachiکیا ہوا جو یہ شام بھی اداس ہے
ہاں جانتا ہوں اداسی کی وجہ بھی بہت خاص ہے
کس قدر شعلہ سرخی سے سجی ستم گر شام ہے
وہ ہے تو خوش مگر بے قرار ہے
شاید اب بھی کسی کا اسے انتظار ہے
دیکھا تھا جو خواب کبھی آج بھی یاد ہے
ہونٹوں پر مسکان مگر آنکھ اشکبار ہے
جو لمحہ بیت گیا بس وہی یادہے
جو اب نہ لوٹ آئے گی بہار اس کاانتظار ہے
نئی پوشاک پر جانے کیوں پرانی سی شال ہے
شال کانہیں سب حسنِ یار کاکمال ہے
سننے کودل کس بے تاب ہے
خان کیوں کرتے ہو تعریف وہ توزمین کا آفتاب ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






