زمین کون خواب کی اسیرہے
Poet: Mumtaz By: Muhammad Zubair, Multanزمین کی آنکھ
جانے کون خواب کی اسیرہے
اسے بھلاخبرکہاں
ترے مرے وجودکی
ہرایک سو،بسے ہوئے جمودکی
تراذراسالمس،
دل کے کینوس پہ دیرتک
جہان نو کی وسعتیں اجالتاچلاگیا
ہم اپنی اپنی ذات میں
جہان درجہاں کھلے
لہوکی بوندبوند تک
زمین کے خواب میں گھلے
ترے لبوںکے شہدکی حلاوتیں
جوقطرہ قطرہ
پیاس کی نسویں تیرتی رہیں
نہ جانے کون سیپیوںمیں بھرگئیں
سمندرنے آسماں سے
بارش کی بات کی
اورکہا،
”تیرے پیالے دودھ سے
بھرے رہیں“
مگریہاں،تیرے مرے وجودمیں
نہ جانے کتنی کائناتیں
ہچکیاںلئے بناہی مرگئیں
زمین نے کچھ نہیں سنا
زمین نے کچھ نہیں کہا
زمین کی آنکھ
چاہے کون خواب کی اسیرہے
ترے مرے وجودپر کھلانہیں
مسافران روزوشب کا
جس جگہ پڑاؤ ہے
لہودھمال کھیلنے کاچاؤ ہے
کوئی بدن،
بدن نہیں ہے،گھاؤ ہے
ترے مرے وجودمیں صداؤں کا
الاؤ ہے
کوئی صدا،
جوچارسوجمودتوڑدے
زمین کوگہری نیندسے جگاسکے
اوراسکے خواب میں
ہمارے خواب کوملاسکے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






