زمیں پاؤں کے نیچے اور سر پہ آسماں ہوتا

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

زمیں پاؤں کے نیچے اور سر پہ آسماں ہوتا
ہمارا بھی کہیں اے کاش کوئی آشیاں ہوتا

خود اپنے ہاتھ سے ہم دِل کو پہلوُ سے جدُا کرتے
اگر دِل پہ ہمیں اندیشۂ آہ و فغاں ہوتا

یہاں ہر شے بدلتی ہے مگر بدلا نہ دِل اپنا
بدلتے موسموں پہ کِس طرح دِل کا گماں ہوتا

خدا کا شکر وہ وعدہ نبھانے آ گئے ورنہ
ہمارے دِل کا عالم صوُرتِ رنگِ خزاں ہوتا

ہمارا اِس طرح ملنا تھا قِسمت میں لکھا ورنہ
نجانے ہم کہاں ہوتے نجانے وہ کہاں ہوتا

لپٹ کے ہم اگر دیوار و در سے رو لئے ہوتے
ہماری بے قراری کا کوئی تو رازداں ہوتا

جدایٔ کا سبب پوچھے کویٔ تو کیا بتائیں ہم ؟
وجہ تو مل گئی ہوتی جو کویٔ درمیاں ہوتا

رہی ہے زندگی بھر مجھ کو تو بس ایک ہی حسرت
جو میرا ہمسفر ہے کاش میرا ہم زباں ہوتا

مرے دل کی کوئی گر ایک بھی حسرت نکل جاتی
نہ ٹھہرا آج دِل میں حسرتوں کا کارواں ہوتا

Rate it:
Views: 936
18 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL