زمیں پاؤں کے نیچے اور سر پہ آسماں ہوتا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKزمیں پاؤں کے نیچے اور سر پہ آسماں ہوتا
ہمارا بھی کہیں اے کاش کوئی آشیاں ہوتا
خود اپنے ہاتھ سے ہم دِل کو پہلوُ سے جدُا کرتے
اگر دِل پہ ہمیں اندیشۂ آہ و فغاں ہوتا
یہاں ہر شے بدلتی ہے مگر بدلا نہ دِل اپنا
بدلتے موسموں پہ کِس طرح دِل کا گماں ہوتا
خدا کا شکر وہ وعدہ نبھانے آ گئے ورنہ
ہمارے دِل کا عالم صوُرتِ رنگِ خزاں ہوتا
ہمارا اِس طرح ملنا تھا قِسمت میں لکھا ورنہ
نجانے ہم کہاں ہوتے نجانے وہ کہاں ہوتا
لپٹ کے ہم اگر دیوار و در سے رو لئے ہوتے
ہماری بے قراری کا کوئی تو رازداں ہوتا
جدایٔ کا سبب پوچھے کویٔ تو کیا بتائیں ہم ؟
وجہ تو مل گئی ہوتی جو کویٔ درمیاں ہوتا
رہی ہے زندگی بھر مجھ کو تو بس ایک ہی حسرت
جو میرا ہمسفر ہے کاش میرا ہم زباں ہوتا
مرے دل کی کوئی گر ایک بھی حسرت نکل جاتی
نہ ٹھہرا آج دِل میں حسرتوں کا کارواں ہوتا
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی







