زمیں مہنگی پڑی ہم کو

Poet: By: Sumera Ataria, GUDDU

زمیں مہنگی پڑی ہم کو یہ گھر مہنگا پڑا ہم کو
کوئی اذن سفر شاید مہنگا پڑا ہم کو

جسے مانگا تھا ہم نے وہ کبھی بھی مل نہ پایا
یہ لگتا ھے دعاؤں کا اثر مہنگا پڑا ہم کو

ہوئی جب سے شناسائی ہماری ان ادیبوں سے
سخن سے آشنائی کا ہنر مہنگا پڑا ہم کو

کوئی جذبہ سمجھ نہ آیا ہائے اس کی محبت کا
کسی کی سوچ کا ذوق نظر مہنگا پڑا ہم کو

نہیں چھپنے دیا ہوتا یہ فن ادبی رسائل میں
کہ اب شہرت کا درجہ کس قدر مہنگا پڑا ہم کو

بھرے اس شہر میں راشد کوئی ہم کو بھی پسند آیا
گلی مہنگی پڑی اس کی وہ در مہنگا پڑا ہم کو

Rate it:
Views: 520
01 Oct, 2012
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL