زمیں پہ کبھی بھول کے مجھ جیسے جنم نہ ہوں

Poet: Sobiya Anmol By: sobiya Anmol, Lahore

زمیں پہ کبھی بھول کے مجھ جیسے جنم نہ ہوں
یہ دُعا ہے میری یا تجھ جیسے صنم نہ ہوں

سوچتی ہوں جانے کتنا وسیع ہو گا میرا سمندر
مدت سے ہر بات پہ آنسو نکلیں اور ختم نہ ہوں

نامِ خُدا تو نکلوایا گُستاخ لہجوں نے زباں سے
کیا ہوتا کر دئیے جو یہ بھی کرم نہ ہوں

جذب کر لوں آنکھوں میں رعنائیِ کائنات ساری
مگر کوئی روز ہو ایسا کہ آنکھیں نم نہ ہوں

بے وفائی کیا ہو گئی قیدِ سخت ہو گئی ہمیں
جیتے ہم بھی جی جان سے جو جان سے غم نہ ہوں

کس راہ سے ہوں مُستفیض پسماندہ تمنائیں
کون چھوئے گا منزل جب چلتے قدم نہ ہوں

ہم کو چلے آنا ہے پھر سے مقدروں کے دھوکے میں
در کھول رکھنا اے قسمت! پر بابِ جہنم نہ ہوں

Rate it:
Views: 501
27 Jun, 2016
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL