زندگی جب بھی تری راہ گذر سے گزری

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

زندگی جب بھی تری راہ گذر سے گزری
میری ہر سانس قیامت کے سفر سے گزری

تو نے ہنس ہنس کے اڑایا ہے مرے فن کا مذاق
جب بھی تخلیق مری تیری نظر سے گزری

کتنی افسردہ و شرمندہ نظر آ تی تھی
شب کی دُلہن جو ابھی بابِ سحر سے گزری

سب کو اوڑھا کے گئی سرد اُداسی کا کفن
موت اِک بار یہاں جس کے بھی گھر سے گزری

فائدہ کچھ بھی نہ تھا آپ کو سمجھانے کا
میں نے جو بات کہی آپ کے سر سے گذری

میں نے تخلیق کیۓ کتنے حسیں شہ پارے
جب کبھی سوچ مِری شمس و قمر سے گذری

اس کا ثانی نہ ہوا کوئی زمانے بھر میں
جو بھی صناعی ترے دستِ ہنر سے گذری

کیا کہوں آپ کا اِس دِل میں ہے کیسا رُتبہ
سر جھکاۓ میں سدا آپ کے در سے گذری

ڈوبتے ڈوبتے سو بار بچی مشکل سے
دل کی کشتی جو کبھی غم کے بھنور سے گذری

کیا کہوں میں نے اٹھائی ہے مصیبت کتنی
تب کہیں جا کے دعا میری اثر سے گذری

Rate it:
Views: 1041
02 May, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL