زندگی جب بھی تری راہ گذر سے گزری
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKزندگی جب بھی تری راہ گذر سے گزری
میری ہر سانس قیامت کے سفر سے گزری
تو نے ہنس ہنس کے اڑایا ہے مرے فن کا مذاق
جب بھی تخلیق مری تیری نظر سے گزری
کتنی افسردہ و شرمندہ نظر آ تی تھی
شب کی دُلہن جو ابھی بابِ سحر سے گزری
سب کو اوڑھا کے گئی سرد اُداسی کا کفن
موت اِک بار یہاں جس کے بھی گھر سے گزری
فائدہ کچھ بھی نہ تھا آپ کو سمجھانے کا
میں نے جو بات کہی آپ کے سر سے گذری
میں نے تخلیق کیۓ کتنے حسیں شہ پارے
جب کبھی سوچ مِری شمس و قمر سے گذری
اس کا ثانی نہ ہوا کوئی زمانے بھر میں
جو بھی صناعی ترے دستِ ہنر سے گذری
کیا کہوں آپ کا اِس دِل میں ہے کیسا رُتبہ
سر جھکاۓ میں سدا آپ کے در سے گذری
ڈوبتے ڈوبتے سو بار بچی مشکل سے
دل کی کشتی جو کبھی غم کے بھنور سے گذری
کیا کہوں میں نے اٹھائی ہے مصیبت کتنی
تب کہیں جا کے دعا میری اثر سے گذری
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






