زندگی جینے کیلیے زندہ ہے
Poet: Rubin Biswas By: Rubin Biswas, Karachiزندگی جینے کیلیے زندہ ہے
محبت کیا ہے
اسمان سے برستی ہوئی
اس فضا میں
محبت کے وسیع سبزہ زار میں
بارش
رکھتی ہوئی قدم اپنا بوند بوند
محبت کے وسیع سبزہ زار میں
یہ بھی کیا محبت ہے
زندگی رواں
دیکھو آمد بہار
سبز سرخ ہرا وہ
شوخیوں سے کھلا
پھول گلاب کا
پھوٹا پھوٹا شاخ سے
بہتا گنگناتا رواں میٹھا
جھرنا پھوٹا
ہری ہری شاخوں سے
ان سے خوش دلی تازگی
کے سمردار گھچے اپس میں مل رہے ہیں
جھکے جھکے نکھرا بارش
کی جھڑی سے شبنم میں دھلا
خوشبوؤں کی بہار سے بھرا اورکھلا
وہ جسکو چاہتا ہے
اسکی
زندگی ہر دم رواں خوش مزاج مہربان
اسکی رحمت سے
ہمیشہ رہو گے یہی بڑی کامیابی ہے
نازاں اسکی قدرت پر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






