زندگی زرد نہیں کالی نہیں لال نہیں

Poet: Saif Butt By: Saif Butt, Jeddah

زندگی زرد نہیں کالی نہیں لال نہیں۔
بندگی جس قد ر چاھی تھی تاحال نہیں۔

میرے ناکردہ گناھوں کی سزا پائی میں نے۔
اب کے سرزد ھوا کوئی گناہ ملال نہیں۔

تم سے پوچھوں یہ بتا اے دلِ بے حیات۔
افسانا خون سے لکھتا ھوں کچھ خیال نہیں۔

بے قدری فرض اپنے پے انہوں نے کر لی ھے۔
پیوستہ تیر کئ سینے میں ھم نڈھال نہیں۔

ھم تیرے رُخساروں پے جو لمسے وفا رکھیں۔
برجستہ رُخِ گلاب نا ھو رُخِ جمال نہیں۔

ابھی تو درد میں بھی دل نے دھڑکنا سیکھا۔
محبت ھی سزاوار میرا کچھ کمال نہیں۔

دیوانے مرد ھوا کریں حُبِ نسواں میں۔
سیفی نا ھوئے یوں بدلی کہیں چال نہیں۔
 

Rate it:
Views: 781
13 Jan, 2014
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL