زندگی زرد نہیں کالی نہیں لال نہیں
Poet: Saif Butt By: Saif Butt, Jeddahزندگی زرد نہیں کالی نہیں لال نہیں۔
بندگی جس قد ر چاھی تھی تاحال نہیں۔
میرے ناکردہ گناھوں کی سزا پائی میں نے۔
اب کے سرزد ھوا کوئی گناہ ملال نہیں۔
تم سے پوچھوں یہ بتا اے دلِ بے حیات۔
افسانا خون سے لکھتا ھوں کچھ خیال نہیں۔
بے قدری فرض اپنے پے انہوں نے کر لی ھے۔
پیوستہ تیر کئ سینے میں ھم نڈھال نہیں۔
ھم تیرے رُخساروں پے جو لمسے وفا رکھیں۔
برجستہ رُخِ گلاب نا ھو رُخِ جمال نہیں۔
ابھی تو درد میں بھی دل نے دھڑکنا سیکھا۔
محبت ھی سزاوار میرا کچھ کمال نہیں۔
دیوانے مرد ھوا کریں حُبِ نسواں میں۔
سیفی نا ھوئے یوں بدلی کہیں چال نہیں۔
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar






