زندگی سے جو پیار کرتے ہیں
Poet: Fazlul Hasan By: F.H.SIDDIQUI, Lucknow زندگی سے جو پیار کرتے ہیں
عشق بھی ایک بار کرتے ہیں
ان سے لاکھوں فریب کھا ئے ہیں
پھر بھی ہم اعتبار کرتے ہیں
صحبت گل تمھیں مبارک ہو
ہم تو کانٹوں سے پیار کرتے ہیں
ہم نے پایا ہے ظرف پروانہ
جلنے والوں سے پیار کرتے ہیں
ہے پتہ تم کبھی نہ آؤ گے
پھر بھی ہم انتظار کرتے ہیں
وہ جو دبکے ہیں آستینوں میں
موقع ملتے ہی وار کرتے ہیں
ہم بھی رکھتے ہیں جیب میں تسبیح
رات دن ذکر یار کرتے ہیں
ان سے فرصت ملی تو ہم بھی حسن
اور کچھ کارو بار کرتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






