زندگی میں اور کیا تھا

Poet: MeeR Hassan khoso By: MeeR Hassan khoso, JACOBABAD

زندگی میں اور کیا تھا
کچھ نہیں بس حوصلہ تھا

اس سے ملنے کا سبب ہی
زندگی کا حادثہ تھا

کچھ نہیں اس کو ہوا تھا
دل تو میرا ہی جلا تھا

دشمنوں پہ دوش کیا تھا
وار اپنوں نے کیا تھا
‏ ‏
ایک ہی دکھ رہے گیا تھا
یار میرا بے وفا تھا

اس نے مجھ کو مار ڈالا
جس کا مجھ کو آسرا تھا

میرے جیون کے سفر میں
بس غموں کا سلسلہ تھا

دوش دیتا کیا کسی کو
اپنے ہاتھوں گھر جلا تھا

اس نے آخر توڑ ڈالا
دل جو میرا من چلا تھا

قافلہ جس نے تھا لوٹا
قافلے کا رہنما تھا

ناؤ خود ہی لے کے ڈوبا
خود ہی اپنا ناخدا تھا

Rate it:
Views: 892
11 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL