دیکھو بدل رہے ہیں انسان کیسے کیسے

Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan khoso, JACOBABAD

رشتے بکھر رہے ہیں ھر آن کیسے کیسے
دیکھو بدل رہے ہیں انسان کیسے کیسے

تعبیر کی تمنا میں ریزہ ریزہ ہو کے
خوابوں میں ٹوٹتے ہیں ارمان کیسے کیسے

پھولوں کو یہ خزاں کی کیسی نظر لگی ہے
خالی پڑے ہیں ھر سو گلدان کیسے کیسے

معذور وہ مسافر پہنچا تھا سب سے پہلے
منزل پہ کر گیا تھا حیران کیسے کیسے

اوقات میری کیا ہے اس مہہ جبیں کے آگے..
دل جان کر گئے ہیں قربان کیسے کیسے

کچھ بھی ہو ایک دن ہے ملنا ضرور تم سے
ملنے کے ڈھونڈتا ہوں امکان کیسے کیسے

کچھ یاد گر نہیں ہے کچھ یاد ہی کرو تم
تم نے کیئے تھے عہدوپیمان کیسے کیسے

کسی ایک کا بھی بدلہ ممکن نہیں چکانا
ہیں تیرے مجھ پہ اے ماں ، احسان کیسے کیسے

اے کاش آگ تجھ کو اک دن لگے اے نفرت
گھر کر دیئے ہیں تو نے ویران کیسے کیسے

اس مخلصی کی عادت سے باز میر~ آجا
تم نے اٹھائے اس میں نقصان کیسے کیسے

Rate it:
Views: 896
11 Feb, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL