دیکھو بدل رہے ہیں انسان کیسے کیسے
Poet: MeeR Hassan Khoso By: MeeR Hassan khoso, JACOBABADرشتے بکھر رہے ہیں ھر آن کیسے کیسے
دیکھو بدل رہے ہیں انسان کیسے کیسے
تعبیر کی تمنا میں ریزہ ریزہ ہو کے
خوابوں میں ٹوٹتے ہیں ارمان کیسے کیسے
پھولوں کو یہ خزاں کی کیسی نظر لگی ہے
خالی پڑے ہیں ھر سو گلدان کیسے کیسے
معذور وہ مسافر پہنچا تھا سب سے پہلے
منزل پہ کر گیا تھا حیران کیسے کیسے
اوقات میری کیا ہے اس مہہ جبیں کے آگے..
دل جان کر گئے ہیں قربان کیسے کیسے
کچھ بھی ہو ایک دن ہے ملنا ضرور تم سے
ملنے کے ڈھونڈتا ہوں امکان کیسے کیسے
کچھ یاد گر نہیں ہے کچھ یاد ہی کرو تم
تم نے کیئے تھے عہدوپیمان کیسے کیسے
کسی ایک کا بھی بدلہ ممکن نہیں چکانا
ہیں تیرے مجھ پہ اے ماں ، احسان کیسے کیسے
اے کاش آگ تجھ کو اک دن لگے اے نفرت
گھر کر دیئے ہیں تو نے ویران کیسے کیسے
اس مخلصی کی عادت سے باز میر~ آجا
تم نے اٹھائے اس میں نقصان کیسے کیسے
More Sad Poetry
ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا ایک پھول نے بھر رکھا تھا گلدان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
Rafay Ali
ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے ہم نے چاہت کو عبادت کی طرح پالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے
سید سلمان حیدر نقوی






