زندگی کے میلے میں خواہش خوشی کیا ہے
Poet: Nadeem Gullani By: Silsilla, lahoreزندگی کے میلے میں خواہش خوشی کیا ہے
کس طرح بتائیں ہم کہ یہ بے بسی کیا ہے
چاند تک سفر اس کا راستے ہوا ہیں پر
آدمی نہیں سمجھا کہ یہ آدمی کیا ہے
رب کی بارگاہ میں بھی ہیں خیال دنیا کہ
کچھ سمجھ نہیں آتا کہ یہ بندگی کیا ہے
اک ذرا سی رنجش سے پل میں چھوڑ دیتے ہو
تم ذرا بتاؤ گے کہ یہ دوستی کیا ہے
دشمنوں سے ملتا ہوں میں ندیم ہنس کے تو
دشمنی بھی کہتی ہے کہ یہ دشمنی کیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






