زندگی یوں گزار دی ہم نے
Poet: Muhammad Faisal By: Muhammad Faisal, Karachiجیسے کوئی بھی دل کے پاس نہ ہو
اور جینے کی کوئی آس نہ ہو
دل یونہی بے سبب اداس نہ ہو
زندگی یوں گزار دی ہم نے
ہر گلی ہر نگر میں جائیں ہم
کس پہ یہ نقدِ جاں لٹائیں ہم
پر کسی کو نہ ڈھونڈ پائیں ہم
زندگی یوں گزار دی ہم نے
کیا نصیبہ بھی بہتریں نکلا
دل کے اپنے کوئی قریں نکلا
خوبرو دل ربا حسیں نکلا
زندگی یوں گزار دی ہم نے
اب نہ قسمت میں اپنی ماتیں ہیں
دن سنہری چمکتی راتیں ہیں
اب اُسی دلنشیں کی باتیں ہیں
زندگی یوں گزار دی ہم نے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






