زَلت ذرا سی ہم کو ذ ِلت نشاں کرے ہے
Poet: Prof Niamat Ali Murtazai By: Prof Niamat Ali Murtazai,زَلت ذرا سی ہم کو ذ ِلت نشاں کرے ہے
اک ـ ’ناــ‘ ہر اک سخی کو نا مہرباں کرے ہے
شوکِ شعور آیا اک شور بختی بن کر
جو شمع رو تصور کو ناتواں کرے ہے
اک زمزمہ خوشی کا ماتم میں ڈھل گیا ہے
مرجھائے گُل کا اکثر یہ دل گماں کرے ہے
چاروں طرف قفس کے ہے پہرہ خامشی کا
قتل و قتال جائز گر دل فغاں کرے ہے
بربط کے تار ٹوٹیں، دل کا رُباب پھوٹے
شہلا ئے ناز آخر کیسی فغاں کرے ہے
مقراض ِ روزو شب نے انسان کاٹ ڈالے
سوزن فکر کی پھر بھی یکجا جہاں کرے ہے
چرخِ کبود اپنے تارے سمیٹ لو تم
بکھراؤ یادِ ماضی دلِ غم نشاں کرے ہے
آتا ہے رونا اس پر، آتی ہنسی ہے اس پر
ہستی حباب اپنی شوقِ زماں کرے ہے
ادنیٰ سے آ دمی ہیں ، ہم کون سے کبیشر
یہاں کون بے نشاں کا واضح نشاں کرے ہے
صفتِ وحی کی حامل اک آہِ دل ہماری
یک دم جو اس جہاں کو بھی لا مکاں کرے ہے
صدیوں کی فکر چھوڑو ، لمحہ سنبھال لو تم
صدیوں کا سفر لمحہ اک رائیگاں کرے ہے
رک جاؤ مرتضائیؔ، اس کی مہار پکڑو
از حد خسارہ دل کا ،تیری لساں کرے ہے
ایک چہرے سے تھا روشن دلِ ویران ہمارا
وہ جو بچھڑا تو اُجڑنے لگے منظر سارے
جیسے قسمت سے نکل جائے نگہبان ہمارا
اس کی یادوں کے چراغوں سے ابھی تک روشن
رات کے وقت بھی لگتا ہے بیابان ہمارا
ہم نے ہر درد کو خاموشی میں پالا برسوں
لوگ سمجھا کیے آباد ہے ایوان ہمارا
اور بدلے میں فقط درد ہی سنبھالا ہے
ہر الزام کی بارش میں اکیلا ہی رہا
میں نے سچ بول کے خود کو ہی اُچھالا ہے
جس کو ہم نے دل و جاں سے بھی عزیز رکھا
اُس نے ہر لمحہ میری مخالفت میں نکالا ہے
ہر گناہ کیا گیا مجھ سے ہی منسوب
میں نے حالات کو خاموشی سے ٹالا ہے
مایوسی نے مجھے توڑ کے دیکھا ہے مگر
میرے حصّے میں فقط صبر کا پیالہ ہے
خواب آنکھوں سے اڑے، نیند بھی روٹھ گئی
اے زندگی، تونے مجھے کس روگ میں ڈالا ہے
سلمانؔ یہ ہنر نہ آتا تو کب کا مر جاتا
میں نے ہر زخم کو راحت میں ڈھالا ہے






