زکرِ شبِ فراق سے وحشت اُسے بھی تھی
Poet: imran Gohar By: imran Gohar, Faisalabadذکرِ شبِ فراق سے وحشت اُسے بھی تھی
میری طرح کسی سے محبت اُسے بھی تھی
مجھ کو تھا شوق دیدِ نو جمال کا اگر
رستہ بدلنا روز ہی عادت اُسے بھی تھی
مجھ سے کٹا تو شہر میں کیونکربساہوگا
دُشمن تھا اگر شہر عداوت اُسے بھی تھی
کب تک وہ درد بانٹتا انسان تھا آخر
زخموںسےمیرےتھوڑی کراہت اُسےبھی تھی
راہِ وفا سے اُس نے قدم موڑ تو لئیے
لیکن وہ مضطرب تھا ملامت اُسے بھی تھی
ترکِ وفا کا فیصلہ اُس کا ہی تھا گوہر ؟
یا تھی یہ خود فریبی چاہت اُسے بھی تھی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






