زیادہ کچھ نہیں بس اتنا چاہتی ہوں
Poet: mehak ijaz By: mehak ijaz, lahoreزیادہ کچھ نہیں بس اتنا چاہتی ہوں
چاہے وہ ساری زندگی نہیں مگر کوئی پل ایسا
میرے ساتھ گزارے
میری الجھی ہوئی ہر سانس کو
کچھ اسطرح سے سنوارے
کہ جتنی دور جاوں
ہر سانس الجھتی جاوں
ہر سانس پگھلتی جاوں
ہر سانس مچلتی جاوں
کچھ اسی طرح سے دھیرےدھیرے
اسکی روح میں اترتی جاوں
پیار سے پکڑے وہ کالائی
میرے ہاتھ میں کنگن پھنائے
اسرات ستاروں سا آنچل بنکر
خود کو مجھ پر اوڑھائے
کبھی مبھکو گلے سے لگائے
کبھی میرےگلے لگ جائے
بس اتنا ہی چاہتی ہوں
کوئ اساہی پل وہ میرے ساتھ گزارے
جس پل کو بھلانے کی میں ہر پل دعا کروں
اور یہ بھی دعا کروں
کہ جس پل یہ دعا قبول ہو
خد اکرے ک وہ پل کبھی نہ آئے
وہ پل کبھی نہ آئے
بس اتنا ہی چاہتی ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






