زیبا تیرا
Poet: Gulzaib Anjum By: Gulzaib Anjum, Dubaiمفاد پرستوں سے ہونا یوُں وابستہ تیرا
بدل نہ ڈالے ایمان تیرا توڑ نہ ڈالے وعدہ تیرا
آنکھوں کے زینے سے اکثر ہوتا تھا تیرا آنا جانا
باندھ دیئےکس نے پنکھ تیرے کاٹ دیا کس نے رستہ تیرا
تجھ سے ملے تجھ کو دیکھے اک عرصہ ہوا ہے جان جگر
پھر بھی لوگ پوچھتے ہیں مجھ سے نام تیرا پتہ تیرا
شاید تیری آنا کے رخت کھل جاہیں اور تو لوٹ آئے
اسی امید پر دیکھتا ہوں شام و سحر رستہ تیرا
کر دیئے منقطع کیوں سلسلے چھٹیوں کے مجھ سے
اب فون پر رہتا ہے ہر وقت کس سے رابطہ تیرا
یادوں کے لیے کافی ہے جو دیا تھا توُ نے ناز سے
دیکھنا کیسے سمنبھال رکھا ہے پیپل کا پتہ تیرا
دل میں رہنے والے جانے سے پہلے اتنا ضرور سوچنا
کرے گا کیا تیرے بعد گل تیرا،زیب تیرا، یہ زیبا تیرا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






