زیست کسی آدمی کی ضائع بھی تو ہوتی ہے

Poet: ناصر نواز By: nasir nawaz, karachi

لازم ہے کہ عام سے چہرے چاہے جائیں؟
حیات یوں تنہا بھی تو بسر ہوتی ہے

اک کمرہ ہو اور چائے کی پیالی بھی
آنکھوں میں زرا نمی بھی تو ہوتی ہے

کوئی مہ جبیں یا کوئی بھی خوشی ہو کہیں؟
آدمی کے رزق میں قلت بھی تو ہوتی ہے

بنانے والے نے دل دیا صنف نازک جیسا
مگر صنف نازک بہت دور بھی تو ہوتی ہے

اب سب کو سب ہی سے مطلب ہے فقط
اب دلوں میں بھلا ذات کہاں ہوتی ہے

تو بھی آباد ہوتا کسی دل کے مکان میں
مکین ہونے کے لئے صورت بھی تو ہوتی ہے

میلا لگا رکھا ہے کم بخت اِس روزگار کے سبب
آدمی کو وحشت سے محبت بھی تو ہوتی ہے

پر فحاش دور، اور چارہ گر نہیں کوئی
ایسے میں خدا سے ملاقات بھی ہوتی ہے

یہ اذیتیں کچھ بھی نہیں بدلے تیرے اعمال کے
مسجود ہوں شرمسار ہوں معافی بھی تو ہوتی ہے

چہرے پر مل کر خاک، مقدر میں مقفل ہوجا ناصر
زیست کسی آدمی کی ضائع بھی تو ہوتی ہے

Rate it:
Views: 233
20 Apr, 2024
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL