ساتھ کچھ تو وہ چلا تھا
Poet: HuKhaN By: hukhan, karachiجو کبھی کوئی ملا تھا
ہاں ساتھ کچھ تو وہ چلا تھا
خزاں بھی بہار سا لگا تھا
ہاں ایک رات وہ ہنسا تھا
چاند بھی حیران تھا
اس نے چاندنی سے کہا تھا
ایسے پہلے کوئی نہ ہنسا تھا
ہاں ساتھ کچھ تو وہ چلا تھا
ہم سے ایک دن کہا تھا
اسے بھی سب اچھا لگا تھا
پھر بہار میں بھی خزاں تھا
نہ کوئی ہنسا نہ ہی کوئی رویا تھا
چاند بھی اب ہم سے خفا تھا
کھویا جیسے ہم نے وہ انسان کی روپ میں اپسرا تھا
مٹا دیں سب یادوں میں کیا رکھا تھا
ہاں ساتھ کچھ تو وہ چلا تھا۔
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






