ساجن کی یاد میں
Poet: Seher By: M Sajjad Hanif Gondal, Lahoreبڑھ گئی اس قدر بے تابی اب خو د کو بھلانا چاہتا ہوں
میں یاد کر کر تھک گیا اب اسے یاد آنا چاہتا ہوں
رکتا نہیں یہ درد دل روکنے کے باوجود
میں تو بڑی دیر سے اس دل کو سمجھانا چاہتا ہوں
کون کہتا ہے کہ مجھے درد نہیں تیر ی جدائی کا
میں تو کب سے تجھے اپنے دامن میں بسانا چاہتا ہوں
تکیہ بھیگ جاتا ہے جب جب تیر ی یاد آتی ہے
میں تو کب سے یہ آنسو تیری گود میں گرانا چاہتا ہوں
بہت ہوگیا ویران زندگی میں رونا دھونا
اب تو کچھ دیر تیرے ساتھ مسکرانا چاہتا ہوں
تھک گیا ہوں ساجن تجھ سے دور رہ رہ کر
اب تو تجھے صرف اپنا اپنا بنانا چاہتا ہوں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






