ساحل کی تمنا میں کب تک ہم ناؤ جیسے ڈولیں گے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKساحل کی تمنا میں کب تک ہم ناؤ جیسے ڈولیں گے
اِس کچے گھر کے پچھواڑے ہم تنہا بیٹھ کے رولیں گے
اِک عہد بچھڑنے والے سے کر بیٹھے تھے سو قائم ہیں
اب دنیا سو اِلزام دھرے ہم اپنے لب نہ کھولیں گے
ہمراز سہی لیکن کب تک تم درد ہمارا بانٹو گے
اے تارو جاؤ سو جاؤ جب نیند آئی ہم سو لیں گے
فنکار سہی تم باتوں کے پر باتوں سے کیا ہوتا ہے ؟
تم راہ دِکھاؤ منزل کی ہم ساتھ تمہارے ہو لیں گے
وہ دور گیا جب اِنسانی قدروں کی کوئی قیمت تھی
دولت کے ترازو میں اب تو لوگ اِک دوجے کو تولیں گے
مانا کہ تم کو جانا ہے پر ایسی بھی کیا جلدی ہے ؟
بس ایک گھڑی تو رک جاؤ ہم مل کے دکھ سکھ پھولیں گے
یہ درد ہمارے جیون کا انمول اثاثہ ٹھہرے گا
یہ اشک متاعِ جاناں ہیں نہ ان کو خاک میں رولیں گے
میں عکس تلاشوں گی اپنا ان کی مخمور نگاہوں میں
جب میٹھے میٹھے لہجے میں وہ عذراؔ مجھ سے بولیں گے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






