ساحل کی تمنا میں کب تک ہم ناؤ جیسے ڈولیں گے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKساحل کی تمنا میں کب تک ہم ناؤ جیسے ڈولیں گے
اِس کچے گھر کے پچھواڑے ہم تنہا بیٹھ کے رولیں گے
اِک عہد بچھڑنے والے سے کر بیٹھے تھے سو قائم ہیں
اب دنیا سو اِلزام دھرے ہم اپنے لب نہ کھولیں گے
ہمراز سہی لیکن کب تک تم درد ہمارا بانٹو گے
اے تارو جاؤ سو جاؤ جب نیند آئی ہم سو لیں گے
فنکار سہی تم باتوں کے پر باتوں سے کیا ہوتا ہے ؟
تم راہ دِکھاؤ منزل کی ہم ساتھ تمہارے ہو لیں گے
وہ دور گیا جب اِنسانی قدروں کی کوئی قیمت تھی
دولت کے ترازو میں اب تو لوگ اِک دوجے کو تولیں گے
مانا کہ تم کو جانا ہے پر ایسی بھی کیا جلدی ہے ؟
بس ایک گھڑی تو رک جاؤ ہم مل کے دکھ سکھ پھولیں گے
یہ درد ہمارے جیون کا انمول اثاثہ ٹھہرے گا
یہ اشک متاعِ جاناں ہیں نہ ان کو خاک میں رولیں گے
میں عکس تلاشوں گی اپنا ان کی مخمور نگاہوں میں
جب میٹھے میٹھے لہجے میں وہ عذراؔ مجھ سے بولیں گے
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






