ساحل کی تمنا میں کب تک ہم ناؤ جیسے ڈولیں گے
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKساحل کی تمنا میں کب تک ہم ناؤ جیسے ڈولیں گے
اِس کچے گھر کے پچھواڑے ہم تنہا بیٹھ کے رولیں گے
اِک عہد بچھڑنے والے سے کر بیٹھے تھے سو قائم ہیں
اب دنیا سو اِلزام دھرے ہم اپنے لب نہ کھولیں گے
ہمراز سہی لیکن کب تک تم درد ہمارا بانٹو گے
اے تارو جاؤ سو جاؤ جب نیند آئی ہم سو لیں گے
فنکار سہی تم باتوں کے پر باتوں سے کیا ہوتا ہے ؟
تم راہ دِکھاؤ منزل کی ہم ساتھ تمہارے ہو لیں گے
وہ دور گیا جب اِنسانی قدروں کی کوئی قیمت تھی
دولت کے ترازو میں اب تو لوگ اِک دوجے کو تولیں گے
مانا کہ تم کو جانا ہے پر ایسی بھی کیا جلدی ہے ؟
بس ایک گھڑی تو رک جاؤ ہم مل کے دکھ سکھ پھولیں گے
یہ درد ہمارے جیون کا انمول اثاثہ ٹھہرے گا
یہ اشک متاعِ جاناں ہیں نہ ان کو خاک میں رولیں گے
میں عکس تلاشوں گی اپنا ان کی مخمور نگاہوں میں
جب میٹھے میٹھے لہجے میں وہ عذراؔ مجھ سے بولیں گے
مل جاتی ہے اشیانوں میں پناہ
اپنوں کی تلخیوں کے مارے ہم جیسے
اشیانہ ہی جلا بیٹھیں ہیں تو کدھر جاتے ہیں
ادھر تو تھی میرے رقیبوں کی بستیاں
اج کل میرے راز داں اکثر جدھر جاتے ہیں
اک تعنہ اور مارو ہتھوڑے کی ضرورت نہیں
مجھ سے کچے پتھر دو ٹھوکروں ہی میں بکھر جاتے ہیں
جادو ٹونا ہے یا حالات کی ہیں مہربانیاں
کہ جس کو اپنا کہتے ہیں اسی کے دل سے اتر جاتے ہیں
میری مفلسی سی کھا گئی میری قدر و عزت اور ہنر
حالات کی ذرا سی لغزش سے ہو گیا میں در بدر
حساب والو بتاؤ تو میری ریاضی تو یہ کہتی ہے
غربت کو خلوص سے ضرب دو تو جواب میں صفر اتے ہیں
دن بھر فکر معاش میں در بدر کے ستائے ہم
تھک کے گرتے ہیں تو سوتے نہیں مر جاتے ہیں
سکون چھینا، محبت کو مٹا ڈالا ہے
خزانے بڑھتے گئے، پیاس بجھتی ہی نہیں
یہ کیسی آگ ہے جس نے سب کھا ڈالا ہے
انا، غرور، لالچ میں بکھر گئے رشتے
حرص نے ہر تعلق کو جدا کر ڈالا ہے
سکون چاہا تو شکر نے راستہ دکھایا
حرص نے جنت کا در بھی چھپا ڈالا ہے
اصل راحت قناعت میں ہی ملتی ہے حنا
حرص نے آدمی کو خاک بنا ڈالا ہے
بےدرد تمھاری بےدردی نے ہمارا بڑا دل دکھایا ہے
تمھاری بے رخی نےہمیں ہمدم بہت غم دیا ہے
تنہا کیسے رہوں تم بن تم کیوں اکیلا چھوڑ جاتے ہو
بینا تمھیں چاہا.خطا نہیں دل کی یہ دل ہمارا تم پہ آیا ہے
ہماری تکلیف کو سمجھو ہمارے درد کو محسوس کرو
آجاؤ سب چھوڑ کے تم تمھیں ہمارے دل نے بلایا ہے
مدتیں بیت گئیں، فقط سوچتا رہا وہ شخص
ڈر تھا بار جانے کا، اظہار نہ کر پایا
یوں اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا وہ شخص
بے بس تھا، لاچار تھا، حسنِ یار کے سامنے
رفتہ رفتہ دل اپنا کھوتا گیا وہ شخص
چیخیں، پکاریں سب کی حصولِ یار کے لیے
سرہانا بھی بھیگ گیا، اتنا رویا وہ شخص
تھا وہ بھی عبد، کتنا ہی برداشت کرتا
بدقسمت، اس مقابلے میں بھی ہار گیا وہ شخص






