میری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمیری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا
مجھ سے پوچھو نہ سبب اس کا ، تو احساں ہوگا
شہرِ دل میں جو کبھی عالمِ ویراں ہوگا
کوئی جگنو ، نہ ستارہ درِ امکاں ہوگا
روٹھ جائیں گے یہ خوش رنگ مناظر سارے
دل اگر اب کے محبت سے گریزاں ہو گا
خوں رلائیں گے مجھے پھر مرے آدابِ وفا
کچھ لکھوں گی تو یہ اشعار کا عنواں ہوگا
موسمِ گل میں سبھی کچھ تو وہی ہو گا مگر
ہم نہ ہوں گے تو کہاں رنگِ بہاراں ہوگا
وقت نے کیسے بدل ڈالے خد و خال مرے
جو بھی دیکھے گا مجھے دیکھ کے حیران ہوگا
میری باتوں میں جو اکثر ہی جھلک آتا ہے
بھوُلا بھٹکا سا کوئی روح کا ارماں ہوگا
ہم دنوں میں ہی بدل ڈالیں گے فرسودہ نظام
کرنا مشکل ہے بہت ، کہنا تو آساں ہوگا
ہے کوئی ایسا بھی دل جس کو کوئی غم ہی نہیں
غمِ جاناں نہ ہوا تو غمِ دوراں ہو گا
خود سے میں ملنا تو چاہوں گی مگر اے عذراؔ
خود سے مل کر بھی بچھڑنا کہاں آساں ہوگا
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم
اکیلے ہی گزارا کر لیا میں نے
سکوں ملتا نہیں مجھ کو اجالے میں
اندھیروں کو ہی پیارا کر لیا میں نے
اگرچہ زیست مشکل تھی یہ تیرے بن
مگر سب کچھ گوارا کر لیا میں نے
یہ دنیا نفع کی عادی تو ہے لیکن
محبت میں خسارا کر لیا میں نے
جھکا کر سر گریبانِ جنوں میں پھر
عجب دلکش نظارا کر لیا میں نے
مقدر کی اندھیری رات میں گویا
خود اپنے کو ستارا کر لیا میں نے






