میری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا
Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UKمیری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا
مجھ سے پوچھو نہ سبب اس کا ، تو احساں ہوگا
شہرِ دل میں جو کبھی عالمِ ویراں ہوگا
کوئی جگنو ، نہ ستارہ درِ امکاں ہوگا
روٹھ جائیں گے یہ خوش رنگ مناظر سارے
دل اگر اب کے محبت سے گریزاں ہو گا
خوں رلائیں گے مجھے پھر مرے آدابِ وفا
کچھ لکھوں گی تو یہ اشعار کا عنواں ہوگا
موسمِ گل میں سبھی کچھ تو وہی ہو گا مگر
ہم نہ ہوں گے تو کہاں رنگِ بہاراں ہوگا
وقت نے کیسے بدل ڈالے خد و خال مرے
جو بھی دیکھے گا مجھے دیکھ کے حیران ہوگا
میری باتوں میں جو اکثر ہی جھلک آتا ہے
بھوُلا بھٹکا سا کوئی روح کا ارماں ہوگا
ہم دنوں میں ہی بدل ڈالیں گے فرسودہ نظام
کرنا مشکل ہے بہت ، کہنا تو آساں ہوگا
ہے کوئی ایسا بھی دل جس کو کوئی غم ہی نہیں
غمِ جاناں نہ ہوا تو غمِ دوراں ہو گا
خود سے میں ملنا تو چاہوں گی مگر اے عذراؔ
خود سے مل کر بھی بچھڑنا کہاں آساں ہوگا
سنبھال رکھنا میری وفا
ملو گے کب یہ تو بتا دوں
اے بتانے والے دو گا دعا
میری ہے تم سے اک التجا
پکار میری تم نے نہ سنی
دیتا رہا ہو بہت بار صدا
میری تم بن گئیں ہو ضد
لیکن لگتا تم کرو گی جفا
تم مل جاؤ اگر اے جاناں
کیونکہ میری اسی میں بقاء
اتنا یقیں ہو گیا ہے مجھے زیب
اس محبت کی تم دو گی سزا
سنتے بھی ہو کے سماعت سے محروم ہو
پہلے تو چلے آتے تھے کسی بہانے سے
اب تو منہ موڑ کے چلے جاتے ہو
کچھ یو ہی سہی صیح میرے مقدر کا قصور ہے
اب جو آتے بھی ہو اور بغیر ملے چلے جاتے ہو
تم سے مل کر اچھا لگتا تھا زیب
کھبی کھبی بے وفا مقدر کے بہانے یاد آجاتے ہو
عمر میں کچھ روانی تو آنے دیتا۔
مُجھے بات کرنے کا ڈھنگ نہ آیا،
زباں پر کچھ روانی تو آنے دیتا۔
وہ مستقبل کے خوب لئیے چلا گیا،
آخر کوئی بات پرانی تو آنے دیتا۔
اگر سچا ہوتا تو صرف باتیں نہ کرتا،
کبھی اپنی کوئی مہربانی تو آنے دیتا۔
یک دم مسکرا کے چلا گیا وہ شخص،
چہرے پہ کچھ حیرانی تو آنے دیتا۔
اسی انتظار میں مجھ سے دیر ہوئی،
" شمس" ،
محبت کی کوئی نشانی تو آنے دیتا۔






