میری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا

Poet: Azra Naz By: Azra Naz, Reading UK

میری غزلوں کا فقط درد ہی عنواں ہوگا
مجھ سے پوچھو نہ سبب اس کا ، تو احساں ہوگا

شہرِ دل میں جو کبھی عالمِ ویراں ہوگا
کوئی جگنو ، نہ ستارہ درِ امکاں ہوگا

روٹھ جائیں گے یہ خوش رنگ مناظر سارے
دل اگر اب کے محبت سے گریزاں ہو گا

خوں رلائیں گے مجھے پھر مرے آدابِ وفا
کچھ لکھوں گی تو یہ اشعار کا عنواں ہوگا

موسمِ گل میں سبھی کچھ تو وہی ہو گا مگر
ہم نہ ہوں گے تو کہاں رنگِ بہاراں ہوگا

وقت نے کیسے بدل ڈالے خد و خال مرے
جو بھی دیکھے گا مجھے دیکھ کے حیران ہوگا

میری باتوں میں جو اکثر ہی جھلک آتا ہے
بھوُلا بھٹکا سا کوئی روح کا ارماں ہوگا

ہم دنوں میں ہی بدل ڈالیں گے فرسودہ نظام
کرنا مشکل ہے بہت ، کہنا تو آساں ہوگا

ہے کوئی ایسا بھی دل جس کو کوئی غم ہی نہیں
غمِ جاناں نہ ہوا تو غمِ دوراں ہو گا

خود سے میں ملنا تو چاہوں گی مگر اے عذراؔ
خود سے مل کر بھی بچھڑنا کہاں آساں ہوگا

Rate it:
Views: 3813
31 May, 2013
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL