ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دیے

Poet: شمیم جے پوری By: Rana, Karachi

ساحل پہ لائی اور سفینے ڈبو دیے
یوں زندگی نے ہم کو ہنسایا کہ رو دیے

اہل چمن نے جشن بہاراں کے نام سے
وہ داستاں سنائی کہ دامن بھگو دیے

ضبط غم فراق کی مجبوریاں نہ پوچھ
دل میں کسی کا نام لیا اور رو دیے

فریاد کی ہے بات مگر اب سنے گا کون
اک ناخدا نے کتنے سفینے ڈبو دیے

اے وائے سعیٔ ضبط کہ اکثر ترے حضور
ہنسنے کا اہتمام کیا اور رو دیے

ان آنسوؤں کا دیکھنے والا کوئی نہ تھا
جن آنسوؤں میں ہم نے تبسم سمو دیے

راہ جنوں میں کام خرد سے لیا ہی تھا
ضعف طلب نے پاؤں میں کانٹے چبھو دیے

تجدید عہد عشق ہوئی آج یوں شمیمؔ
نظریں ملیں سلام کیا اور رو دیے

Rate it:
Views: 501
30 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL