سارا عالم ہے رازداں ہے کہاں
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاشعر اپنے ہیں جاوداں ہے کہاں
سارا عالم ہے رازداں ہے کہاں
میری آنکھوں میں اب بھی زندہ ہے
اس کی چاہت کا اک جہاں ہے کہاں
کبھی فرصت ملے تو پڑھ مجھکو
میں بھی تیری ہوں داستاں ہے کہاں
اپنی اپنی ہی سب کی چاہت ہے
اپنی اپنی ہے کہکشاں ہے کہاں
میں نے دیکھا ہے غیر کے در پر
وہ جو میرا تھا ہم زباں ہے کہاں
پھر سے ماضی میں لو ٹ آؤ نا
چھپ کے بیٹھی ہو تم وہاں ہے کہاں
بیچ دریا بھی سب سلامت ہیں
میری کشتی کے بادباں ہے کہاں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






