ساری دنیا کا آئینہ ہے عشق
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیادین و مسلک ، وفا ، ، خدا ہے عشق
ساری دنیا کا آئینہ ہے عشق
میرے پیچھے ہے ڈوبتا سورج
میرے آگے یہ لادوا ہے عشق
شب کی آنکھوں میں جاگ کر تنہا
دن کے آنگن میں ناچتا ہے عشق
بس خدا کا ہی نام یاد رہے
خواہشوں کی کوئی دعا ہے عشق
خود کو طوفاں میں آزمائیں ذرا
ساحلوں کا یہ راستہ ہے عشق
خاک چھانی ہے وشمہ دنیا کی
پھر بھی سمجھی نہیں یہ کیا ہے عشق
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






