ساغر و جام کو چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے

Poet: ذکی کاکوروی By: Washma, Lahore

ساغر و جام کو چھلکاؤ کہ کچھ رات کٹے
جام کو جام سے ٹکراؤ کہ کچھ رات کٹے

کھائے جاتی ہے یہ تنہائی یہ تاریکئ شب
دو گھڑی کے لئے آ جاؤ کہ کچھ رات کٹے

چپ تمہاری مجھے دیوانہ بنا دیتی ہے
آج للہ نہ شرماؤ کہ کچھ رات کٹے

ہاں یہ وعدہ رہا اب پھر نہیں روکیں گے کبھی
آج کچھ دیر ٹھہر جاؤ کہ کچھ رات کٹے

ساز و نغمہ ہی سہی ہاں مے و مینا ہی سہی
ساقیا جام ہی بھر لاؤ کہ کچھ رات کٹے

اے ذکیؔ ہجر کی راتیں نہیں کاٹے کٹتیں
کوئی اچھی سی غزل گاؤ کہ کچھ رات کٹے

Rate it:
Views: 559
30 Jun, 2021
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL