ساون
Poet: azharm By: Azhar, Dohaلے کے، یادیں، ساون آیا
اپنا ماضی آگے پایا
بارش نے پھر یہ فرمایا
کیا ہے کھویا، اور کیا پایا
لے کے یادیں ساون آیا
بچپن، ساتھی ،رونا، گانا
ملنا جلنا، آنا جانا
کھیتوں سے چوری کر کھانا
ویسا کچھ بھی پھر نہ بھایا
لے کے یادیں ساون آیا
کاپی پنسل،لکھنا پڑھنا
اچھے کاموں آگے بڑھنا
ٹیچر غصہ بیٹھے کڑھنا
پلٹی ہے ساری اب کایا
لے کے یادیں ساون آیا
پنگھٹ ،جھرمٹ، نٹ کھٹ ،گھونگھٹ
آہٹ، سلوٹ ،سرپٹ ،تلپٹ
ہم نے چھپ ہی جانا جھٹ پٹ
سب کچھ کتنا من کو بھایا
لے کے یادیں ساون آیا
شہرت، پیسا، چاندی، سونا
نیندیں اور سکھ سب کچھ کھونا
چھپ کے سب سے بیٹھے رونا
دنیا میں کاہے وہ لایا
لے کے یادیں ساون آیا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






