سب دیکھتے تھے اور کوئی سوچتا نہ تھا

Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKI

سب دیکھتے تھے اور کوئی سوچتا نہ تھا
جیسے یہ کوئی کھیل تھا ، اِک واقعہ نہ تھا !

لکھتے بیاضِ وقت پہ ہم کیا تاثرات
سب کچھ تھا درج اور کوئی حاثیہ نہ تھا

آپس کی ایک بات تھی دونوں کے درمیان
اے اہلِ شہر آپ کا یہ مئسلہ نہ تھا !

تیری گلی میں آئے تھے بس تجھ کو دیکھنے!
اس کے سِوا ہمارا کوئی مدّعا نہ تھا

تھے ثبتِ حُکم ہجر پہ اُس کے بھی دستخط
تقدیر ہی کا لِکّھا ہُوا فیصلہ نہ تھا

اِک سمت پاسِ عشق تھا، اِک سمت اپنا مان
کیسے گُریز کرتے ! کوئی راستہ نہ تھا !!

امجد یہ اقتدار کا حلقہ عجیب ہے
چاروں طرف تھے عکس کوئی آئینہ نہ تھا

Rate it:
Views: 623
14 Nov, 2011
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL