کہتا ہے دَرپن
Poet: Amjad Islam Amjad By: TARIQ BALOCH, HUB CHOWKIکہتا ہے دَرپن
میرے جیسا بن!
تاریکی کی موت!
ایک نحیف کِرن
محنت اپنا مال
وقت ، پرایا دَھن
بات نہ کرنے سے
بڑھتی ہے اُلجھن
اپنے دِل جیسا !
کوئی نہیں دشمن
دُنیا! لوٹا دے
میرا اپنا پن
جُھولے جی اُٹّھے
جاگ پڑے جامن
روز وہی قِصّہ!
روز وہی اُلجھن!
صدیاں لُوٹ گئی
پائل کی چَھن چَھن
یہ تو برسے گا
ساون ہے، ساون!
سارے خاک سَمان
تَن اور مَن اور دَھن
اپنوں ہی سے تو
ہوتی ہے اَن بَن
سب سے اچّھا ہے
اپنا گھر آنگن!
پیاس بڑی ہے یا
سونے کا برتن؟
کیا اُفتاد پڑی!
لگتا نہیں مَن
آدم زاد نہیں
بستی ہے یا بَن!
کیسا بھی ہو رُوپ!
مٹی ہے مدفن
سِکّے کے دو رُخ
بِرہن اور دُلہن
دھوکہ دیتے ہیں
اُجلے پیراہن
راہ میں کِھلتا پُھول
بیوہ کا جوبن
دونوں جُھوٹے ہیں
ساجن اور سَاون
آہٹ کِس کی ہے
تیز ہُوئی دھڑکن
اُتنی خواہش کر
جِتنا ہے دامن
ہم تم دونوں ہیں
دَھرتی اور ساون
عکس بنے کیسے؟
دُھندلا ہے درپن
زیر آب ہُوئے
خوابوں کے مسکن
ٹھہر گیا ہے کیوں!
آنکھوں میں ساون !
کچّا سونا ہی
بنتا ہے کُندن
اِک دِنِ نکھرے گا
سچّا ہے گر، فن!
کیسے روک سکے!
خُوشبو کو گلشن
امجد میرے ساتھ
اَب تک ہے بچپن!
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔






