سب سے چھپ کے خود سے ملاقات کرتے ہیں
Poet: UA By: UA, Lahoreسب سے چھپ کے خود سے ملاقات کرتے ہیں
ہم شاعری نہیں بس اپنی بات کرتے ہے
آنکھوں میں اپنا عکس آئینے میں اپنا سراپا
خود کو تکتے تکتے دن سے رات کرتے ہیں
خود سے خطاب کرتے ہیں ہم خود کلام کرتے ہیں
ہم تو سو سو باتوں میں بھی اپنی بات کرتے ہیں
کسی اور سے کیا مطلب مجھے کسی سے کیا کہنا
اپنے ساتھ کرتے ہیں ہم جو بھی بات کرتے ہیں
میں خاموش رہوں لیکن خاموش نہیں رہنے دیتے
مجھ سے میری باتیں یہ گل پات کرتے ہیں
کیسے اپنا بچپن بیتا کیسے جوبن گزر گیا
یہ تخمینہ ہم اکثر اوقات کرتے ہیں
اپنے آپ کو خود ہی توڑا جوڑا کرتے ہیں
یوں اپنی بے ترتیب مکمل ذات کرتے ہیں
بزم دنیا میں تو اکثر ہنستے بستے رہتے ہیں
اور تنہائی میں اشکوں کی برسات کرتے ہیں
عظمٰی ہاتھ اٹھائے نظر جھکائے دامن پھیلائے
اپنے رب سے کیا کیا مناجات کرتے ہیں
More Sad Poetry
ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں ہر وقت دستیاب ہونا ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
گلشن میں برباد ہونا ضروری نہیں
تم حیات ہو میری ازل سے جانم
لیکن ترے لیے غزل لکھنا ضروری نہیں
لکھ بھیجے ہیں کچھ سوال تو نے مجھے
اب ان کا جواب لکھنا ضروری نہیں
بھولیں کی ہیں تو نے بہت میرے ساتھ
ان کو بھول جانا ضروری نہیں
تم نے کھائی تھیں قسمیں میل نبھانے کی
ان قسموں کو نبھانا ضروری نہیں
دل بھی دے دیا، دستیاب بھی رہتے ہیں اکثر
ہر وقت ملنا ملانا ضروری نہیں
بڑی رسوائی سے محبت نبھا رہا ہوں
ورنہ تم سے جدائی ضروری نہیں
بے وفا تو نہیں ہو، رائے ہے تمہاری
بھری بزم میں فضیحت کرنا ضروری نہیں
تجھ کو پا کے ہی دم لوں گا، ضد ہے ہماری
ضد پر قائم رہنا، زیب، ضروری نہیں
Zohaib sarwar







