سب غرض کے بندے ہیں
Poet: rehan By: rehan abbas, lahoreدنیا کی حقیقت کیا
سب غرض کے بندے ہیں
یہ عشق محبت تو
رسمیں ہیں دوانوں کی
باتیں ہیں فسانوں کی
تم پیار کے سودائی
کس بھول میں پھرتے ہو
اس مطلبی دنیا میں
ہو شخص ہی تنہا ہے
ہر شخص ہے ہرجائی
سب وعدے محبت کے
اور قسمیں نبھانے کی
لفظوں کے پلندے ہیں
اور لفظ منافق ہیں
ہرشخص نے جسم اپنا
کندھے پہ اٹھایا ہے
اس جسم کو ہر لمحہ
سانسوں کی ضرورت ہے
کھانا ہے کبھی پینا
اٹھ کرہے کبھی چلنا
محتاج جو اتنا ہو
اس شخص پہ تکیہ کیا
اس خاک کے پتلے پر
کرتے ہو بھروسہ کیا
اس وقت نظرآتے
دو چار جو ساتھی ہیں
حاجات کے مارے ہیں
موسم کے پرندے ہیں
اڑجائیں گے سب اک دن
دنیا کی حقیقت کیا
سب غرض کے بندے ہیں
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






