سب نام محبت کے
Poet: Farkhanda Rizwi By: Shazia Hafeez, Attockقریب تو آؤ
دل کی ہر دھڑکن تمہاری ہے
یہ محبت کے سلسلے یہیں سے ساتھ چلے ہیں
میں انتظار کرتی ہوں
تم یاد بن کر چلی آتی ہو
ایسے ہی پھر
دل میں کہیں بس جاتی ہو
ہونٹوں سے پیار کر کے
سانسوں میں اتر جاتی ہو
لگا پھر یہی سانس دھڑکن میں کہیں بس گئی ہو
تم اقرار محبت کر بیٹھی ہو
تو سنو مجھ سے
روشنی ہو تو بکھر جاؤ
میری راہوں میں
سمندر ہو تو لہروں کی طرح میرے
دامن میں سما جاؤ
آسمان ہو تو آنچل بنو میرا
ستاروں کی طرح پناہ دو مجھ کو
روشنی ستارا سمندر بنو
کوئی فرق نہیں ہے سب میں
نام کوئی دو خود کو
سب نام ہی محبت کے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






