سب کو دیوانہ محبت نے بنا رکھا ہے (گیت)
Poet: Dr.Zahid Sheikh By: Dr.Zahid Sheikh, Lahore Pakistanجانے الفت کی تمناؤں میں کیا رکھا ہے
سب کو دیوانہ محبت نے بنا رکھا ہے
صرف رسوائی ہے ،بربادی ہے ان کاموں میں
کیا بھلا رکھا ہے ملنے کی حسیں شاموں میں
جب ہوں ناکامئی الفت سے یہ دوچار کبھی
ڈوب جاتے ہیں سدا کے لیے پھر جاموں میں
دل ہزاروں کا محبت نے جلا رکھا ہے
سب کو دیوانہ محبت نے بنا رکھا ہے
کیا یہ بہتر نہیں انسان کوئی کام کرے
عشق میں ڈوب کے نہ زیست کو ناکام کرے
اپنی عزت کو بچائے کہ یہی اچھا ہے
نام ماں باپ کا دنیا میں نہ بدنام کرے
نام محبوب کا ہونٹوں پہ سجا رکھا ہے
سب کو دیوانہ محبت نے بنا رکھا ہے
جانے الفت کی تمناؤں میں کیا رکھا ہے
سب کو دیوانہ محبت نے بنا رکھا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






